آخر کار دو سال کے تکلیف دہ انتظار کے بعد میرے جیسے کروڑوں ’گیم آف تھرونز‘ کے مداحوں کے لیے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں جب پیر کو سیریز کا آٹھواں اور آخری سیزن شروع ہوا۔
لیکن اس کے ساتھ سپوائلرز سے بچنے کے مشکل مرحلے کا بھی آغاز ہو گیا۔
سیزن کے شائقین پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، لیکن اس کی پہلی قسط امریکی وقت کے مطابق رات کے دس بجے نشر کی گئی۔
لہٰذا جن افراد نے اسے پہلی فرصت میں دیکھا ان کی ایک بہت بڑی تعداد نے بحیثیت بدذوق انسان اپنا فرض سمجھتے ہوئے گیم آف تھرونز کے ٹوئٹر کے ٹرینڈ #GameofThrones پر جا کر کہانی کی تمام ضروری تفصیلات اپنے غیر ضروری تجزیوں کے ساتھ لکھ دیں۔
تحریر میں آگے بڑھنے سے پہلے میں پڑھنے والوں سے اس غریب اور بدقسمت لکھنے والے سیزن کے مداح کا غم ضرور بیان کروں گا جسے صبح آفس آتے ساتھ بی بی سی نے اپنے قارئین کے لیے گیم آف تھرونز کے ٹرینڈ پر لکھنے کا کہا (یعنی حکم دیا) اس حکم کی تعمیل کرتے کرتے میں قسط دیکھنے سے پہلے ہی وہ سب کچھ جان گیا جو میں نہیں جاننا چاہتا تھا۔
خدا میرے ایڈیٹر کو پوچھے گا۔
میری مشکل یہاں ہی ختم نہ ہوئی۔ میرے ساتھ کام کرنے والے ساتھی صحافی اپنے موبائل پر سیزن کی پہلی قسط سے محظوظ ہو رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ مجھے زبردستی جھلکیاں دکھاتے ہوئے فخریہ انداز میں کہتے ’1080 p ہے، فل ایچ ڈی!‘۔
اس کے ساتھ پورے نیوز روم سے آوازیں آ رہیں تھی ’تم نے دیکھا ہے؟ نہیں! میں بتاتا ہوں‘۔ بھلا ہو ساتھی فاران رفیع کا جنھوں نے اس ظلم عظیم کے خلاف۔۔۔۔۔ ٹویٹ کردی۔


0 comments :
Post a Comment