آپ یہی سمجھ رہے ہوں گے کہ ڈزنی کی ریلیز ہونے والی فلم الہٰ دین کا مرکزی کردار خود الہٰ دین ہی ہو گا لیکن اس فلم کے آخر میں دیے گئے کریڈٹس کے مطابق ایسا نہیں ہے۔
سنہ 1992 میں بننے والی اینیمیٹڈ فلم الہٰ دین کے برعکس 2019 میں بننے والی فلم میں الہٰ دین کے جِن کا نام اداکاروں کی فہرست میں سب سے اوپر آتا ہے۔ اور اس کی وجہ جن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کی موجودگی ہو کیونکہ وِل سمتھ اس فلم میں کام کرنے والے فنکاروں میں سب سے بڑا نام ہیں۔
ڈزنی نے فلم میں الہٰ دین اور یاسمین کے کرداروں کے لیے نسبتاً نو عمر اداکاروں، مینا مسعود اور نائومی سکاٹ کا انتخاب کیا ہے۔
2017 میں اس فلم کی کاسٹ کا انتخاب کرتے وقت یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ تقریباً 2000 اداکار اور اداکارائیں ان دو مرکزی کرداروں کے لیے کئی مہینوں سے آڈیشن دے رہے تھے۔
مسعود نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’منتخب ہونے کا مرحلہ بہت سخت تھا۔ میں یہ فلم بچپن سے دیکھ رہا ہوں اور جیسے ہی مجھے اس کے آڈیشنز کی خبر ملی تو میں فوراً پہنچ گیا۔‘
اور جب مجھے چار مہینوں تک کوئی جواب نھیں ملا تو میں تھوڑا مایوس ہوا لیکن پھر میں ہر اداکار کی طرح اس بات کو بھول گیا۔
’لیکن پھر ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہ ایک کڑا مرحلہ تھا، لیکن مجھے خوشی ہے کہ آج میں یہاں موجود ہوں۔‘
خیال یہ تھا کہ رز احمد اور دیو پٹیل الہٰ دین کا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ڈزنی نے اس کردار کے لیے نئے چہرے ڈھونڈنے شروع کر دیے۔
میگزین دی ہالی وڈ رپورٹر نے اس وقت لکھا کہ ’ڈزنی کا طلسماتی قالین ہچکولے کھانے لگا ہے۔‘
فلم سٹوڈیوز کے لیے ایسے نو عمر مرد فنکار ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے جو اداکاری کے ساتھ ساتھ گانا بھی گا سکیں اور ساتھ ہی ساتھ مشرقی یا انڈین نسل کے بھی ہوں۔ ہیرو کا مشرقی یا انڈین نسل سے ہونا اس لیے ضروری تھا کیونکہ الہٰ دین کی اینیمیٹڈ کہانی مشرقِ وسطیٰ کے ایک افسانوی شہر اگربہ میں بنائی گئی تھی۔
جب اس کھوج میں زیادہ وقت لگنے لگا تو ڈزنی اور فلم کے ڈائریکٹر گائے رچی کو متعدد بار اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑی۔
سعود کا کہنا ہے کہ سٹوڈیوز کو مرکزی کرداروں کا انتخاب کرتے وقت ’اعتدال پسندی‘ کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب ہم فلم میں کرداروں کے حساب سے صحیح اداکاروں کا انتخاب کریں۔‘
’آج کل کے فلم اور ٹیلی ویژن کے دور میں فنکاروں کو بہت کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ لیکن میں پھر بھی سمجھتا ہوں کہ ایک کردار کہ لیے صحیح فنکار کا انتخاب بہت ضروری ہے۔ `

0 comments :
Post a Comment